نئی دہلی،27/جنوری (ایس او نیوزآئی این ایس انڈیا) مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالب علم شرجیل امام پر نشانہ لگایا۔ دہلی کے رٹھالا میں پیر کو انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ آپ نے شرجیل امام کا ایک ویڈیو دیکھا ہوگا، جس میں وہ نارتھ ایسٹ کو ہندوستان سے الگ کرنے کی بات کرتا ہے۔ اس نے ملک کو بانٹنے کی بات کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی پولیس کو اس کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا کہا۔ پی ایم مودی کے کہنے پر پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔امت شاہ نے کہا کہ مودی حکومت میں یہ حق سب کو ہے، کجریوال کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہمیں گالی دیں؛ لیکن اگر کوئی ’بھارت ماتا‘ کے ٹکڑے کرنے کی بات کرے گا، تو آپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑے گا۔امت شاہ کے دعوے کے مطابق:’کچھ وقت پہلے JNU میں ’بھارت تیرے ٹکڑے ہو ایک ہزار‘ نعرے لگے تھے،(خیال رہے کہ ابھی تک اس مبینہ نعرہ بازی کی تحقیق نہیں ہوسکی ہے)۔وزیر اعظم نے ان نعرے لگانے والوں کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا، لیکن یہ کہتے ہیں کہ انہیں آزادیئ اظہار کا حق ہے۔امت شاہ نے کجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں مبینہ طور پر مذہبی تشدد کے شکار اقلیتوں کے لئے وزیر اعظم CAA لے کر آئیں۔ اس پر کجریوال بولتے ہیں کہ بی جے پی کو پاکستانیوں کی فکر ہے، جب سے تقسیم ہوا ہے تب سے دہلی میں لاکھوں پناہ گزین آئے ہیں، وہ لوگ ہمارے ہیں۔ امت شاہ کاعلی الرغم کہنا تھاکہ میں کجریوال سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ دہلی کے غریبوں کا کیا قصور تھا کہ آپ نے جو 5 لاکھ روپے کی مدد وزیراعظم انہیں دینا چاہتے تھے، ا ن سے چھین لیا۔